خشیت اللہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - خدا کی ناراضگی، غصہ، غیض و غضب۔ "کوئی ترغیب اس ترغیب سے زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکتی جو خانہ خدا میں خشیت اللہ کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر لوگوں کو دی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، نوائے وقت لاہور، اگست ٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خشیت' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی ماخوذ اسم 'اللہ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٠٦ء میں "الحقوق و الفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خدا کی ناراضگی، غصہ، غیض و غضب۔ "کوئی ترغیب اس ترغیب سے زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکتی جو خانہ خدا میں خشیت اللہ کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر لوگوں کو دی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، نوائے وقت لاہور، اگست ٣ )

جنس: مؤنث